Sunday, 5 April 2015



    لندن(نیوزڈیسک)پیٹ میں گیس کے مسائل کبھی اتنا تنگ کرتے ہیں کہ ہمارے لئے جینا دوبھر ہوجاتا ہے ۔اگر آپ کو بھی کبھی ایسے مسئلے سے دوچار ہونا پڑے تو مندرجہ ذیل بیجوں کا استعمال کرکے دیکھیں ۔ان بیجوں سے گیس کے مسئلے سے فوری نجات مل جاتی ہے۔
    کالا زیرہ
    ایک کپ ابلتا ہوا پانی میں ایک سے دو چمچ کالا زیرہ ڈال کر لیں اور 15منٹ تک پڑا رہنے دیں اور پھر چھان لیں۔دو سے چار کپ تک اس مشروب کو روزانہ کھانوں کے درمیان استعمال کرنے سے گیس سے نجات مل جاتی ہے۔
    باد ختائی کے بیج
    ایک کپ ابلے ہوئے پانی میں ایک چمچ بادختائی کے بیج ڈالیں اور اسے 15منٹ تک پڑا رہنے دیں اور چھاننے کے بعد استعمال کریں۔آپ چاہیں تو اسے کھانے سے پہلے یا بعد میں استعمال کرسکتے ہیں۔کچھ لوگوں کو باد ختائی سے الرجی ہوتی ہے،ایسے افراد اس کے استعمال سے قبل اپنے معلاج سے مشورہ کرلیں۔
    سونف
    ایک کپ ابلتا ہوا پانی ایک سے دو چمچ سونف کے بیجوں پر ڈالیں اور 15منٹ پڑا رہنے کے بعد اسے چھان کر کھانے سے پہلے یا بعد میں پی لیں۔

    Saturday, 4 April 2015




      نیویارک(نیوزڈیسک)اگر آپ اپنے موبائل کے لئے انتہائی سستا کوور ڈھونڈ رہے ہیں تو ہم آپ کو یہ کوور گھر پر ہی تیا ر کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ ایک غبارہ لے کر اس پھلانا ہے اور اب اپنے ساتھی کو کہنا ہے کہ وہ غبارے کی ہوا بھرنے والی جگہ کو ذرا ڈھیلا پکڑے اور آپ اپنے سمارٹ فون کو اس غبارے میں دباتے جائیں۔ جیسے جیسے ہوا نکلے گی یہ غبارہ آپ کے موبائل کے گرد بیٹھ کر ایک کوور کی شکل اختیار کرلے گا۔لیجئے 10روپے میں آپ کا موبائل کوور تیار ہے۔

      برمنگھم (نیوز ڈیسک) مغرب سے شروع ہونے والے سافٹ ڈرنکس اور کولا ڈرنکس کے شوق نے اب ہمارے معاشرے کو بھی مکمل طور پر گرفت میں لے لیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی معاشرہ اب ان ڈرنکس کے خوفناک خطرات کو جان چکا ہے اور انکے خلاف مہم چلا رہا ہے مگر ہمارے ہاں یہ روز بروز زیادہ مقبول ہورہے ہیں۔
      مزید پڑھیں:کوکا کولا کے بارے میں وہ دلچسپ حقائق جو آپ کو معلوم نہیں 
      حال ہی میں ایک سائنسی تحقیق کی گئی جس میں سافٹ ڈرنکس میں میٹھے کی حد سے زیادہ خطرناک مقدار اور اس کے تشویشناک اثرات سامنے آئے۔ اس تحقیق کے مطابق ایک چمچ میں تقریباً 5گرام میٹھا ہوتا ہے اور جب مختلف قسم کے سافٹ ڈرنکس میں میٹھے کی مقدار معلوم کی گئی تو وہ درجنوں چمچ کے برابر نکلی۔
      ٭ ماﺅنٹین ڈیو کی 20 اونس کی بوتل میں 77 گرام میٹھا پایا گیا یعنی ایک بوتل میں 15چمچ سے بھی زیادہ میٹھا پایا گیا، جبکہ اس میں کوکا کولا کی نسبت 40 گنا زیادہ کیفین پائی گئی۔
      مزیدپڑھیں:کوکا کولا کے بارے میں حیرت انگیز حقائق جو آپ نہیں جانتے 
      ٭ 16اونس انرجی ڈرنکس میں 62 گرام میٹھا پایا گیا۔
      ٭ ان ڈرنکس میں میٹھے کی حد سے زیادہ مقدار شدید تیزابیت پیدا کرتی ہے۔ تیزایت کی یہ مقدار دانتوں اور دیگر ہڈیوں سے کیلشیم کی تہہ کو اتارنا شروع کردیتی ہے۔ دانتوں سے کیلشیم کی تہہ تحلیل ہونے کے بعد دانت کمزورہونا شروع ہوجاتے ہیں اور ان میں کھوڑ بننے کا عمل شروع ہوجاتاہے۔ خاص طور پر کولا ڈرنکس کو آہستہ آہستہ پینے سے یہ دانتوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔
      اس سے پہلے کولا ڈرنکس کو زیابیطس، بلڈ پریشر، موٹاپے اور دل کی بیمارےوں کا باعث قرار دیا جا چکا ہے اور یہ تحقیق ان مشروبات کے دانتوں اور ہڈیوں پر اثرات کو واضح کرتی ہے۔


      لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گردے انسانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس طرح دوسرے اعضاء قدرت کے عطا کردہ انعامات ہیں۔ اسی طرح گردے بھی انسانی زندگی کیلئے ایک انمول تحفہ ہیں۔ کھانے یا پینے والی غذا کے فضلات کا ایک اہم حصہ گردوں سے فلٹر ہو کر جسم سے خارج ہو جاتا ہے جسم کے اعضاء جس قدر اہم ہیں اسی قدر حساس بھی ہیں کیونکہ اس میں لاکھوں کی تعداد میں چھوٹی چھوٹی چھلنیاں جن کوKidny Nephronکہتے ہیں لگی ہوئی ہیں جن سے فلٹریشن پراسس ہوتا ہے، جسم کے ہر اعضاء اس حوالے سے بھی ذرا مختلف ہیں ،گردوں میں تکالیف کی اقسام نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہیں۔ مثلاً گردہ کی سوجن،گردہ میں پتھریاں ، پیشاب کا رک جانا ، پیشاب بار بار آنا وغیر۔ 
      سب سے زیادہ مریض کو جو پریشانی ہوتی ہے وہ یہ کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے جلدی متوجہ ہی نہیں ہوتا کہ اْسے کون سی بیماری لاحق ہے۔ مریض صرف درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر بتاتا ہے کہ یہاں درد ہے ،درد کیوں ہے؟ اس کیلئے اسے ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں جس پر کافی خرچ آتا ہے۔چند لوگ ان چکروں میں پڑنے سے بچنے کیلئے یا تو اپنے ٹوٹکے شروع کر دیتے ہیں یا پھر عطائی لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور تکلیف شدت اختیار کر جاتی ہے۔
      امراض گردہ :جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ گردوں میں ایک سے زیادہ تکالیف ہو تی ہیں اور اْن کی علامات بھی الگ الگ اور وجوہات بھی جد اجداہو تی ہیں۔ 
      گردوں کی سوجن:اس مرض میں گردے کی ساخت میں نقص سے سوزش ہو جاتی ہے اس کے ساتھ ہی جھلیوں میں پانی پڑ جانے سے سوزش ہو جاتی ہے۔ اگر یہ نقص زیادہ شدت اختیار کر جائے تو گردہ کی ساخت چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے لیکن ایسا اْس وقت ہوتا ہے جب گردوں کا مرض پرانا ہوچکا ہو۔ شروع میں مریض کو تیز بخارسے لرزہ طاری ہو جاتا ہے، مریض کے ہاتھ پاؤں پر سوزش آجاتی ہے، نبض تیز اور سخت چلتی ہے۔ چہرہ پیلا اور سوجن والا ہو جاتا ہے بلکہ عام طور ر تمام جسم پر سوجن محسوس ہوتی ہے۔اگر دونوں گردے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو سارا جسم اور چہرہ اس قدرپھول جاتا ہے کہ آنکھیں تک چھپ جاتی ہیں۔ پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے جس سے سینہ میں سانس کی تنگی اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔ 
      اسباب مرض: عام طور پر شدید سردی لگ جانا اس مرض کا باعث بنتا ہے اچانک بخار یا ٹھنڈے پانی میں بھیگ جانے سے سوزش گردہ کی تکلیف واقع ہو جاتی ہے۔ مے نوشی اس بیماری کا لازمی جزو ہے۔ دیگر لوگوں کی نسبت نشہ میں مبتلا افراداس بیماری کا عام شکار ہوتے ہیں۔غذا میں اعتدال نہ رکھنے سے بھی گردوں میں سوزش ہو جانا عام بات ہے۔بعض دفعہ یہ مرض موروثی ہوتا ہے خصوصاً ایسے خاندان جن میں اس مرض کی ہسٹری موجود ہوایسے افراد بھی اس مرض کا زیادہ شکا رہوتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں گوشت خوری کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے سبزی ہو یا دال گوشت کے بغیر نہیں کھاتے ایسے لوگوں کے گردوں میں چربی فلٹر نہیں ہوپاتی اور باریک سوراخ جو گردوں میں فلٹر کا کام کرتے ہیں بند ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں گردوں سے خارج ہونے والا فضلہ پوری طرح خارج نہیں ہو پاتا۔ 
      گردوں میں پتھری:اس مرض میں گردوں یا مثانے میں پتھری بننا شروع ہو جاتی ہے۔ معدنی ذرا ت جو پیشاب تہ نشین ہوتے ہیں کبھی تو الگ الگ پڑے رہتے ہیں اور خارج ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ آپس میں مل جائیں تو پتھری کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ان کے باہم ملنے سے ہی گردے یا مثانہ کی پتھریاں وجود میں آتی ہیں۔ میدانی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی نسبت پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ 
      گردوں میں پتھری بننے کے اسباب اور احتیاطی تدابیر: گردوں میں پتھری عام طور پر فلٹر یشن پر اسس کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے عام طور پر جن علاقوں میں پانی میں نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ان علاقوں کے لوگ اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں پہاڑی علاقوں میں جہاں پر لوگ زیادہ تر چشموں یاتلابوں کا پانی استعمال کرتے ہیں، ان لوگوں کے گردوں میں پتھریاں بننے کے امکانا ت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ چاول ، آلو، پالک اور دیگر سبز پتوں والی سبز یاں زیادہ استعمال کرتے ہیں ان لوگوں میں پتھریاں بننے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہیں۔ 
      پانی کا کم استعمال بھی پتھری بننے کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ گردوں کو جتنی مقدار پانی کی فلٹریشن پراسس کیلئے درکارہوتی ہے اگر اتنی مقدار میں پانی نہ پیا جائے تو کئی قسم کے فاسد مادے گردوں سے خارج ہونے سے رہ جاتے ہیں اور انہی مادوں کے اوپر کیلشیم ، فاسفیٹ وغیرہ کے ذرات اکٹھے ہو کر پتھری کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ ان مذکورہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے اپنی زندگی کو مزید محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں اور اللہ رب العزت کی دی ہوئی نعمتوں کا بھرپور انداز میں شکرادا کیا جائے۔

        لندن(نیوزڈیسک)اگر آپ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور اپنی نیند پوری کرنے کے چکر میں صبح کو بستر میں پڑے رہتے ہیں اور ناشتہ نہیں کرتے تو جان لیں کہ آپ اپنی صحت کے ساتھ بہت ظلم کررہے ہیں ۔حال ہی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ رات کو دیر تک جاتے ہیں ان میں ذیابیطس اور پٹھوں کی کمزور ی زیادہ دیکھی گئی۔
        مزیدپڑھیں:امیر دبئی کا لندن میں 114 لگژری گاڑیوں، عملے کیلئے شاندار عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ
        کوریا یونیورسٹی کالج آف میڈیسن کی جانب سے 1600سے زائد افراد جن کی عمریں 40اور 50سال کے درمیان تھی پر تحقیق کی گئی اور ان کاخون ،چکنائی اور ہڈیوں کا ٹیسٹ کیا گیااور ساتھ ہی ان سے ان کی رات کو سونے کا معمول پوچھا گیا۔جو لوگ رات کو دیر تک جاگنے کے عادی تھے اور بظاہر جوان نظر آرہے تھے ان کے جسم میں چکنائی اور خون میں غیر صحت مند چکنائیاں پائی گئیں۔ایسے افراد کے خون میں ذیابیطس کے امکانات بھی زیادہ نظر آرہے تھے۔ایسے افراد میں پٹھوں کی کمزوری بھی چار گنا زیادہ دیکھی گئی جبکہ ان کمزوریوں کی وجہ سے دل کے دورے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔تحقیق کار ڈاکٹر نین ہی کیم کا کہنا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا، سگریٹ نوشی اور دیر سے کھانا کھانا جیسی قبیح عادتوں کی وجہ سے صحت تباہ ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی عادتوں سے فوراًچھٹکارا پا لینیا ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے ورنہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ خطرناک بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔


          لندن (نیوز ڈیسک) کیا آپ یا آپ کے بچے اکثر کوکا کولا اور پیپسی جیسے سافٹ ڈرنک پیتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ جان لیں کہ دل کی بیماری، موٹاپہ اور ذیابیطس جیسے مسائل آپ کے دروازے پر دستک دینے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ اگرچہ ایک مدت سے ان مشروبات کے نقصانات کے بارے میں تحقیقات سامنے آ رہی ہیں مگر مغربی ممالک میں اب انہیں اس قدر مہلک قرار دے دیا گیا ہے کہ ان کے خاتمے یا کمی کیلئے باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔ برطانوی اخبار ”میل آن لائن“ کے مطابق برطانیہ میں GULP-Give up Loving Pop نامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو سافٹ ڈرنک چھوڑنے پر مائل کرنا ہے۔
          کیا آپ کو لفظ 'گلبر گ'کا مطلب معلوم ہے ؟انتہائی دلچسپ معلومات
          سرکاری ادارے NHS کی مدد سے چلائی گئی اس مہم کے مطابق کولا ڈرنکس تمباکو کے نشے کی طرح عوام کو گرفت میں لے چکے ہیں اور یہ دل، جگر اور معدے کی بیماریاں پیدا کرنے کے علاوہ موٹاپہ، دانتوں کی بیماریاں اور ہڈیوں کی بیماریاں پیدا کر رہے ہیں۔ مہم کیلئے دو خصوصی پوسٹر بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں جن کے مطابق روزانہ ایک کین کولا ڈرنک پینے والوں میں ہارٹ اٹیک کا خدشہ 33 فیصد بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک سال کے دوران ان کا وزن تقریباً 6 کلوگرام بڑھ جاتا ہے۔ اس مہم میں خصوصاً اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ 4 سے 10 سال عمر کے بچوں اور ٹین ایجرز کو کولا ڈرنکس سے مکمل طور پر بچایا جائے کیونکہ یہ ان کیلئے زہر قاتل ہے اور کولا ڈرنکس میں پائے جانے والے اجزاءاور خصوصاً اضافی میٹھا ان بچوں اور نوعمر لوگوں پر اس عمر میں جو اثر ڈالتا ہے وہ ساری عمر کیلئے روگ بن سکتا ہے۔ 
          برطانیہ میں کوشش کی جا رہی ہے کہ سٹوروں، کالجوں اور کھیل کے میدانوں کے قریب قریب کہیں بھی کوکا کولا اور پیپسی جیسے مشروبات نظر نہ آئیں۔


            برمنگھم (نیوز ڈیسک) بالوں کی صحت ہم سب کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر خراب ہوتے ہوئے بالوں کو بچانے کے لئے مہنگے شیمپوں اور کنڈیشنر وغیرہ استعمال کرتے رہتے ہیں جبکہ اصل وجوہات کی طرف توجہ نہیں دیتے۔
            مزید پڑھیں:حمل اور تاریکی لازم و ملزوم ، اولاد کے خواہشمند جوڑوں کیلئے مفید معلومات 
            ڈاکٹر جان واڈسٹین کا کہنا ہے کہ بالوں کو خشکی اور کھردرے پن سے بچانے اور انہیں ٹوٹنے اور گرنے سے روکنے کے لئے پروٹین، گلوکوز، وٹامن اور معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے جن کے حصول کے بہترین طریقے درج ذیل ہیں:
            ٭ سفید بالوں کا علاج
            اخروٹ میں بائیوٹین، وٹامن ای اور اومیگا تیل پایا جاتا ہے جبکہ اس میں کاپر بھی ہوتا ہے۔ اخروٹ کے غذائی اجزاءمیلانین پیدا کرتے ہیں جن کے باعث بالوں کا رنگ سیاح اور چمکدار رہتا ہے۔
            ٭ بالوں کی نشوونما کے لئے
            کوینا بوٹی کے بیج ایک خاص قسم کے پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو بالوں کو ضرورت کے مطابق امائینو ایسڈ اور خصوصاً لائسین فراہم کرتے ہیں۔ یہ بیج بالوں کی نشوونما کے لئے بہترین نسخہ ہیں۔
            ٭ لمبے بالوں کے لئے
            بالوں کے باریک ہونے،گرنے یا لمبے نہ ہونے کی بنیادی وجہ آئرن کی کمی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چربی کے بغیر گوشت یا دالوں کا استعمال کریں۔
            ٭ مضبوطی اور لچک کے لئے
            انڈوں میں پائی جانے والی پروٹین، وٹامن ڈی، وٹامن بی، بائیوٹین بالوں کو مضبوط اور لچکدار بناتی ہیں جس کی وجہ سے یہ توٹتے نہیں ہیں اور گرنا کم ہوجاتے ہیں۔
            ٭ خشکی کے علاج کےلئے
            بالوں کی خشکی اور سکری کے علاج کے لئے ان کی جڑوں میں تیل پیدا کرنے والے گلینڈز کو متحرک کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے سمندری غذائیں مثلاً جھینگے، کیکڑے اور لابسٹر بہت مفید ہیں جبکہ اس مقصد کے لئے کدوکے بیج بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
            مزید پڑھیں:کھانے کے علاوہ زیتون کے تیل کے 7 حیرت انگیز فوائد 
            ٭ بالوں کو جوان رکھنے کےلئے
            بڑھتی عمر کے ساتھ بال خشک اور کمزورہوجاتے ہیں لیکن جئی کا دلیہ کھانے والوں کو اس مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور ان کے بال صدا جوان رہتے ہیں۔
            ٭ دو منہ کے حل کےلئے
            وٹامن سی کی کمی سے جسم میں فری ریڈیکل پیدا ہوتے ہیں جو بالوں کے سروں کو کمزور کردیتے ہیں اور یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لئے سرخ مرچ، کینو، سٹرابیری، ٹماٹر اور ہر قسم کے ترشاوہ پھلوں کا استعمال کریں۔